Aqal o Dil By Iqbal

عقل و دل


عقل نے ايک دن يہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں ميں
ہوں زميں پر ، گزر فلک پہ مرا
ديکھ تو کس قدر رسا ہوں ميں
کام دنيا ميں رہبری ہے مرا
مثل خضر خجستہ پا ہوں ميں
ہوں مفسر کتاب ہستی کی
مظہر شان کبريا ہوں ميں
بوند اک خون کی ہے تو ليکن
غيرت لعل بے بہا ہوں ميں
دل نے سن کر کہا يہ سب سچ ہے
پر مجھے بھی تو ديکھ ، کيا ہوں ميں

راز ہستی کو تو سمجھتی ہے
اور آنکھوں سے ديکھتا ہوں ميں

ہے تجھے واسطہ مظاہر سے
اور باطن سے آشنا ہوں ميں
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تو خدا جو ، خدا نما ہوں ميں
علم کي انتہا ہے بے تابی
اس مرض کی مگر دوا ہوں ميں
شمع تو محفل صداقت کی
حسن کی بزم کا ديا ہوں ميں
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا
طائر سدرہ آشنا ہوں ميں
کس بلندی پہ ہے مقام مرا
عرش رب جليل کا ہوں ميں

6 comments

great poem!

allama iqbals poems are the best in the world better than any other english poet.

Allama Iqbal's poetry should be the part of curriculum right from pre primary classes. Our next generation is going way off the lines set by our grand grand father of nation and his dedicated partners.

What a beautiful Poem for aqal o Danish with Dil for Ever.


EmoticonEmoticon