Rooh e Arzi Adam (Alai Salam) Ka Istiqbaal...

Tags

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے



کھول آنکھ ، زميں ديکھ ، فلک ديکھ ، فضا ديکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا ديکھ
اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں ميں چھپا ديکھ
ايام جدائی کے ستم ديکھ ، جفا ديکھ

بے تاب نہ ہو معرکۂ بيم و رجا ديکھ

ہيں تيرے تصرف ميں يہ بادل ، يہ گھٹائيں
يہ گنبد افلاک ، يہ خاموش فضائيں
يہ کوہ يہ صحرا ، يہ سمندر يہ ہوائيں
تھيں پيش نظر کل تو فرشتوں کی ادائيں

آئينۂ ايام ميں آج اپنی ادا ديکھ

سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے
ديکھيں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
ناپيد ترے بحر تخيل کے کنارے
پہنچيں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے

تعمير خودی کر ، اثر آہ رسا ديکھ

خورشيد جہاں تاب کی ضو تيرے شرر ميں
آباد ہے اک تازہ جہاں تيرے ہنر ميں
جچتے نہيں بخشے ہوئے فردوس نظر ميں
جنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر ميں

اے پيکر گل کوشش پيہم کی جزا ديکھ

نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سے
تو جنس محبت کا خريدار ازل سے
تو پير صنم خانۂ اسرار ازل سے
محنت کش و خوں ريز و کم آزار ازل سے

ہے راکب تقدير جہاں تيری رضا ، ديکھ


EmoticonEmoticon