Wo Harf e Raaz Ke Mujh Ko...

Tags

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گيا ہے جنوں


وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گيا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئيل دے تو کہوں
ستارہ کيا مری تقدير کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک ميں ہے خوار و زبوں
حيات کيا ہے ، خيال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے انديشہ ہائے گونا گوں
عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہيں کہ ميں اپنے آپ ميں نہ رہوں
ضمير پاک و نگاہ بلند و مستی شوق
نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں
سبق ملا ہے يہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشريت کی زد ميں ہے گردوں
يہ کائنات ابھی ناتمام ہے شايد
کہ آرہی ہے دما دم صدائے 'کن فيکوں'
علاج آتش رومی کے سوز ميں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگيوں کا فسوں
اسی کے فيض سے ميری نگاہ ہے روشن
اسی کے فيض سے ميرے سبو ميں ہے جيحوں


EmoticonEmoticon