Taza Phir Danish e Hazir...

Tags

تازہ پھر دانش حاضر نے کيا سحر قديم


تازہ پھر دانش حاضر نے کيا سحر قديم
گزر اس عہد ميں ممکن نہيں بے چوب کليم
عقل عيار ہے ، سو بھيس بنا ليتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکيم
عيش منزل ہے غريبان محبت پہ حرام
سب مسافر ہيں ، بظاہر نظر آتے ہيں مقيم
ہے گراں سير غم راحلہ و زاد سے تو
کوہ و دريا سے گزر سکتے ہيں مانند نسيم
مرد درويش کا سرمايہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر يہ نصاب زر و سيم


EmoticonEmoticon