La Phir Ik Bar Wohi Bada o Jaam A Saqi

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی


لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آ جائے مجھے ميرا مقام اے ساقی
تين سو سال سے ہيں ہند کے ميخانے بند
اب مناسب ہے ترا فيض ہو عام اے ساقی
مری مينائے غزل ميں تھی ذرا سی باقی
شيخ کہتا ہے کہ ہے يہ بھی حرام اے ساقی
شير مردوں سے ہوا بيشۂ تحقيق تہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی
عشق کی تيغ جگردار اڑا لی کس نے
علم کے ہاتھ ميں خالی ہے نيام اے ساقی
سينہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عين حيات
ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے ساقی
تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
ترے پيمانے ميں ہے ماہ تمام اے ساقی


EmoticonEmoticon