Husan o Ishq


                             حسن و عشق

جس طرح ڈوبتی ہے کشتی سيمين قمر
نور خورشيد کے طوفان ميں ہنگام سحر
جسے ہو جاتا ہے گم نور کا لے کر آنچل
چاندنی رات ميں مہتاب کا ہمرنگ کنول
جلوہ طور ميں جيسے يد بيضائے کليم
موجہ نکہت گلزار ميں غنچے کی شميم
ہے ترے سيل محبت ميں يونہی دل ميرا
تو جو محفل ہے تو ہنگامۂ محفل ہوں ميں
حسن کی برق ہے تو ، عشق کا حاصل ہوں ميں
تو سحر ہے تو مرے اشک ہيں شبنم تيری
شام غربت ہوں اگر ميں تو شفق تو ميری
مرے دل ميں تری زلفوں کی پريشانی ہے
تری تصوير سے پيدا مری حيرانی ہے
حسن کامل ہے ترا ، عشق ہے کامل ميرا
ہے مرے باغ سخن کے ليے تو باد بہار
ميرے بے تاب تخيل کو ديا تو نے قرار
جب سے آباد  ترا عشق ہوا سينے ميں
نئے جوہر ہوئے پيدا مرے آئينے ميں
حسن سے عشق کی فطرت کو ہے تحريک کمال
تجھ سے سر سبز ہوئے ميری اميدوں کے نہال
قافلہ ہو گيا آسودۂ منزل ميرا


EmoticonEmoticon