Ghazal (kia kahun apne)



کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا
اور اسير حلقہ دام ہوا کيونکر ہوا

جائے حيرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں ميں
مجھ کو يہ خلعت شرافت کا عطا کيونکر ہوا

کچھ دکھانے ديکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کيا خبر ہے تجھ کو اے دل فيصلہ کيونکر ہوا

ہے طلب بے مدعا ہونے کی بھی اک مدعا
مرغ دل دام تمنا سے رہا کيونکر ہوا

ديکھنے والے يہاں بھی ديکھ ليتے ہيں تجھے
پھر يہ وعدہ حشر کا صبر آزما کيونکر ہوا

حسن کامل ہی نہ ہو اس بے حجابی کا سبب
وہ جو تھا پردوں ميں پنہاں ، خود نما کيونکر ہوا

موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے درد فراق
چارہ گر ديوانہ ہے ، ميں لا دوا کيونکر ہوا

تو نے ديکھا ہے کبھی اے ديدۂ عبرت کہ گل
ہو کے پيدا خاک سے رنگيں قبا کيونکر ہوا

پرسش اعمال سے مقصد تھا رسوائی مری
ورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ ، کيا ہوا ، کيونکر ہوا

ميرے مٹنے کا تماشا ديکھنے کی چيز تھی
کيا بتائوں ان کا ميرا سامنا کيونکر ہوا


EmoticonEmoticon