Ghazal ( Anokhi waza hai)



انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہيں
يہ عاشق کون سی بستی کے يا رب رہنے والے ہيں
علاج درد ميں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں
جو تھے چھالوں ميں کانٹے ، نوک سوزن سے نکالے ہيں
پھلا پھولا رہے يا رب! چمن ميری اميدوں کا
جگر کا خون دے دے کر يہ بوٹے ميں نے پالے ہيں
رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی
نرالا عشق ہے ميرا ، نرالے ميرے نالے ہيں
نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
نشيمن سينکڑوں ميں نے بنا کر پھونک ڈالے ہيں
نہيں بيگانگی اچھی رفيق راہ منزل سے
ٹھہر جا اے شرر ، ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہيں
اميد حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
يہ حضرت ديکھنے ميں سيدھے سادے ، بھولے بھالے ہيں
مرے اشعار اے اقبال کيوں پيارے نہ ہوں مجھ کو
مرے ٹوٹے ہوئے دل کے يہ درد انگيز نالے ہيں


EmoticonEmoticon