Aik Pehaar aur Gulehri Poetry By Iqbal for Children

ايک پہا ڑ اور گلہری

(ماخوذ از ايمرسن)

(بچوں کے لئے)


کوئی پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی ميں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چيز ہے ، اس پر غرور ، کيا کہنا
يہ عقل اور يہ سمجھ ، يہ شعور ، کيا کہنا !
خدا کی شان ہے ناچيز چيز بن بيٹھيں
جو بے شعور ہوں يوں باتميز بن بيٹھيں
تری بساط ہے کيا ميری شان کے آگے
زميں ہے پست مری آن بان کے آگے

جو بات مجھ ميں ہے ، تجھ کو وہ ہے نصيب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں جانور غريب کہاں

کہا يہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا
يہ کچی باتيں ہيں دل سے انھيں نکال ذرا
جو ميں بڑی نہيں تيری طرح تو کيا پروا
نہيں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
ہر ايک چيز سے پيدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، يہ اس کی حکمت ہے
بڑا جہان ميں تجھ کو بنا ديا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا ديا اس نے
قدم اٹھانے کی طاقت نہيں ذرا تجھ ميں
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کيا تجھ ميں
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
يہ چھاليا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
نہيں ہے چيز نکمی کوئی زمانے ميں
کوئی برا نہيں قدرت کے کارخانے ميں


EmoticonEmoticon