Qalandar Ki Pehchaan

Tags

قلندر کی پہچان



کہتا ہے زمانے سے يہ درويش جواں مرد
جاتا ہے جدھر بندۂ حق، تو بھی ادھر جا

ہنگامے ہيں ميرے تری طاقت سے زيادہ
بچتا ہوا بنگاہ قلندر سے گزر جا

ميں کشتی و ملاح کا محتاج نہ ہوں گا
چڑھتا ہوا دريا ہے اگر تو تو اتر جا

توڑا نہيں جادو مری تکبير نے تيرا؟
ہے تجھ ميں مکر جانے کی جرات تو مکر جا

مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ايام کا مرکب نہيں، راکب ہے قلندر


EmoticonEmoticon