Tehzeeb e Hazir - Tazmeen Brshair Faizi

تہذيب حاضر - تضمين بر شعر فيضی

حرارت ہے بلاکی بادۂ تہذيب حاضر ميں
بھڑک اٹھا بھبوکا بن کے مسلم کا تن خاکی
کيا ذرے کو جگنو دے کے تاب مستعار اس نے
کوئی ديکھے تو شوخی آفتاب جلوہ فرما کی
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبيعت نے
يہ رعنائی ، يہ بيداری ، يہ آزادی ، يہ بے باکی
تغير آگيا ايسا تدبر ميں، تخيل ميں
ہنسی سمجھی گئی گلشن ميں غنچوں کی جگر چاکی
کيا گم تازہ پروازوں نے اپنا آشياں ليکن
مناظر دلکشا دکھلا گئی ساحر کی چالاکی
حيات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتيں کيا کيا
رقابت ، خودفروشی ، ناشکيبائی ، ہوسناکی
فروغ شمع نو سے بزم مسلم جگمگا اٹھی
مگر کہتی ہے پروانوں سے ميری کہنہ ادراکی

''تو اے پروانہ ! ايں گرمی ز شمع محفلے داری
چو من در آتش خود سوز اگر سوز دلے داری


EmoticonEmoticon