Ghazal(gulzar hast o bod) of Iqbal



گلزار
 ہست و بود نہ بيگانہ وار ديکھ
ہے ديکھنے کی چيز اسے بار بار ديکھ
آيا ہے تو جہاں ميں مثال شرار ديکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار ديکھ
مانا کہ تيری ديد کے قابل نہيں ہوں ميں
تو ميرا شوق ديکھ، مرا انتظار ديکھ
کھولی ہيں ذوق ديد نے آنکھيں تری اگر
ہر رہ گزر ميں نقش کف پائے يار ديکھ


EmoticonEmoticon