Ghazal (Majnoo ne shehar chora)




مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
نظارے کی ہوس ہو تو ليلی بھی چھوڑ دے



واعظ! کمال ترک سے ملتی ہے ياں مراد
دنيا جو چھوڑ دی ہے تو عقبی بھی چھوڑ دے



تقليد کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی
رستہ بھی ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے



مانند خامہ تيری زباں پر ہے حرف غير
بيگانہ شے پہ نازش بے جا بھی چھوڑ دے



لطف کلام کيا جو نہ ہو دل ميں درد عشق
بسمل نہيں ہے تو تو تڑپنا بھی چھوڑ دے



شبنم کی طرح پھولوں پہ رو ، اور چمن سے چل
اس باغ ميں قيام کا سودا بھی چھوڑ دے



ہے عاشقی ميں رسم الگ سب سے بيٹھنا
بت خانہ بھی ، حرم بھی ، کليسا بھی چھوڑ دے



سوداگری نہيں ، يہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے



اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
ليکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے



جينا وہ کيا جو ہو نفس غير پر مدار
شہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے



شوخی سی ہے سوال مکرر ميں اے کليم!
شرط رضا يہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے




واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز ميں
اقبال کو يہ ضد ہے کہ پينا بھی چھوڑ دے


EmoticonEmoticon